میں کافی عرصے سے سوچ رہی تھی کہ فرقہ واریت کے نام پر نام نہاد مسلمان کیسے خون کی ہولی کھیل رہے ہیں۔ جانوروں سے بھی بد تر رویّہ اپنائے ہوئے ان دہشتگردون کو ہاتھوں ہم کٹھ پتلی بن کر رہ گئے ہیں ۔ ’ایک بے گنا ہ کا قتل پوری قوم کا قتل ہے‘ اس معقولے کو نادیدہ قوتیں کیا خوب استعمال کر رہی ہیں اور ہم جاہل عوام انہی کے کارندے بنے ان کے راستے ہموار کر رہے ہیں وہ تو صرف ایک گولی یا بم کے ذریعے چند کا خون بہاتے ہیں جبکہ ہم جلتی آگ میں گھی کا کا مکرتے ہیں اور چند منٹوں میں چند ہلاکتوں کو بیسیوں ہلاکتوں میں بدل دیتے ہیں ۔ یہ ہے ہمارے احتجاج کا طریقہ کار ۔
اس احتجاج میں کئی گھر اجڑ جاتے ہیں ۔ احتجاج کرنا غلط نہیں لیکن جو طریقہ کار ہم اپناتے ہیں وہ کسی بھی مہذب قوم کا نہیں ۔ آگے بات کرنے سے پہلے رواں سال بم دھماکوں میں ہلاکتوں کی تعداد پر نظر ڈالیئے اس کے بعد ان احتجاجوں سے ہونے والے نقصانات کا تخمیہ لگانے کی کوشش کیجیئے گا ۔ 2013 کی ابداء سے اب تک ڈیڑھ ماہ کے قلیل عرصے میں ملک کے مخلتف علاقوں میں تقریباً دس سے زائد بم دھماکے ہوئے جن میں تقریباً 403 ہلاکتیں اور 754 افراد زخمی ہوئے ۔ یہ تعداد صرف بم دھماکوں کی ہے جن میں روز مرہ کی ٹارگٹ کلنگ، مختلف حادثات اور غربت سے ستائے افراد کی خود کشی شامل نہیں ۔
ہم 55 فیصد خواندہ افرا د اپنے غم کا اظہار احتجاج، ہڑتالوں ، جلاؤگھیراؤ، تجارتی مراکز کی بندش ، تعلیمی اداروں کی چھٹی ، پرچے ملتوی کرنے اور عدالتوں کا بائیکاٹ کرنے کی صورت میں کرتے ہیں ۔ رواں سال فروری تک 7 جمعے آئے جن میں سے 5 ہڑتالوں کی نظر ہو گئے۔ جمعے کا دن خدا کا فضل تلاش کرنے کا دن ہے نہ کہ دہشت پھیلانے ، دھرنے دینے ، احتجاج کرنے ، روڈ بلاک کرنے ، جلاؤ گھیراؤ کرنے ، فقط مسلمان بھائیوں کو تکلیف دینے کا دن۔ یہ عید کے دن سے مماثلت رکھتا ہے۔ تو کیا کسی نے ہم میں سے ایک بھی فرد نے عید الا ضحیٰ یا عید الفطر کے دن نئے کپڑے پہن کر ہاتھوں میں بینر پکڑ کر ، دوست احباب اور دعوتوں کو پس پشت ڈال کر روڈوں پر نکل کر احتجاج کیا ؟ دکانیں نظر آتش کیں ؟ اسٹریٹ لائیٹس توڑیں ؟ گاڑیوں پر پتھراؤ کیا؟ یہ سب تو ایک طرف کیا عام احتجاج کے دنوں میں اپنے ذاتی املاک گاڑی ٹائر کو نظر آتش کیا؟ دوسروں کے املاک ہی کو کیوں ؟
بہنوں اور بھائیوں! ذرا غور فرمائیے ! اتنی لا تعداد ہلاکتوں اور املاک کا بے جا نقصان کر کے کیا ہم اپنے مسائل سے پیچھا چھڑا سکتے ہیں کچھ نہیں تو کم از کم پر امن احتجاج کق پر امن رکھنے کے لئے ہی کچھ اقدامات کر سکتے ہیں۔ دکھ ایک انسان کے مرنے کا ہو یا سو کے مرنے کا افسوس اس لیے ہونا چاہیئے کہ ہماری قوم کا فرد مرا ۔ ہم ایک قوم ہیں اگر آج شیعہ احتجاج کر رہے ہیں تو وہ یہ نہ سوچیں کہ وہ صرف اپنے لئے لڑ رہے ہیں وہ ہر اس فرد کے لئے لڑ رہے ہیں جو اس ملک میں رہتا ہے۔
میں نہ شیعہ ہون نہ سننی ، صرف اک عام پاکستانی شہری جو ان روز کی بلا ضرورت چھٹیوں سے اور ملکی حالات سے پریشا ن ہے ۔ میں وہ غریب ہوں جو روز کی کمائی سے دو وقت کی روٹی کھاتا ہے ۔ لیکن صرف افسوس کرنے سے کچھ بھی بدل نہیں سکتا جب تک ہم ایک قوم بن کر مسائل کا حل نہ ڈھونڈ لیں ۔

پہلے ہی اس ملک میں تعلیم کا شعبہ بدحالی کا شکار ہے بہت سے لوگ حکومت کے اس فیصلے پر بہت خوش ہوں گے کہ میٹرک تک مفت تعلیم دی جائے گی لیکن اس اہم فیصلے پر میرے خیال میں کوئی بھی شاباشی کا حقدار نہیں ہے۔ کیوں کہ سروے کے مطابق کالی سندھ میں بچوں کے سیکھنے کی صلاحیتوں میں بہت تیزی سے کمی واقع ہورہی ہے۔ تیسری جماعت کے 84 فیصد بچے اپنی مادری زبان میں کہانیاں نہیں پڑھ سکتے جبکہ 66 فیصد پچھلی جماعت کی کتاب سے جملے بھی نہیں پڑھ پاتے ۔ دوسری طرف برطرف اساتذہ نے اپنی برطرفی کے خلاف احتجاج کیا۔ سوال اس امر پر ہے کہ جتنے اساتذہ اس وقت تعلیم کے شعبے سے منسلک ہیں تو کیا ان میں سے کوئی اپنی کمائی حلال کر رہا ہے؟ مشکل سے 10 فیصد واقعی حلال کرتے ہیں لیکن پھر بھی اگر اکثریت کا جواب ہاں ہے تو پھر یہ 84 فیصد بچے کہاں سے پیدا ہوئے؟ اور اگر نہیں تو پھر برطرفی کا حق تو بنتا ہے۔
آخر میں اس مسئلے کے حل کی طرف آتے ہیں ۔ پہلا حل تو احتجاج اور ہڑتال کرنے والوں کے ہاتھ میں ہی موجود ہے۔ میں نے شروع میں ہی کہا تھا کہ احتجاج سے روک نہیں لیکن خود کو تباہی کی طرف دھکیلنے سے روکنا ہے۔ احتجاج ضرور کریں لیکن فقط اتنا کریں کہ تعلیمی اداروں کو اس دن ضرور کھلوائیں ان کی سیکیورٹی اور کنوینس کی ذمّہ داری بھی پوری کریں اپنے بچوں کو بھی احتجاج میں ضرور شامل کریں لیکن تعلیمی اداروں سے لوٹنے کے بعد ۔ اپنی قوم کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں تاکہ وہ بھی ااگے چل کر اپنے حقوق کے لیئے صحیح طریقہ کار کے تحت آواز اٹھا سکیں اور حل تلاش کر سکیں ۔
انتہا پسندی کی یلغار سے بچنے کے لئے مختلف مذاہب ، طبقہ فکر کے ساتھ بین الاقوامی یکجہتی اور پر امن بقائے باہمی کے لیے اسلامی نقطہ نظر انسانیت اور انسانی فلاح کی ترجیحات مثبت یکسوئی سوچ کے لئے اسکول ، مدرسہ اور تعلیم کو بنیادی عنصر کے طور پر استعمال کرنا ہو گا تاکہ ہماری آنے والی نسلیں اس دہشت اور خوف کی وادی سے نکل کر خوش و خرم اور پر امن زندگی گزار سکیں ۔ خدا کرے ایسا ہی ہو ۔ آمین
No comments:
Post a Comment