New Feed

Consequence of evil can never be good!

Sunday, 17 March 2013

ہم اور بریانی کی پلیٹ


میری اب تک کی گزاری ہوئی زندگی میں دو الیکشن مجھے یاد ہیں۔ اور دونوں کی یادیں کچھ اچھی نہیں ہیں۔ شاید اسی لئے مجھے لفظ ’’الیکشن‘‘ صرف مسئلہ ہی لگتا ہے۔

پہلی بات تو یہ کہ اسکولوں کو پولنگ اسٹیشن کیوں بنایا جاتا ہے۔ دوسرا مسئلہ بڑے اسکولوں کی ناک کا آجاتا ہے کہ وہ الیکشن کے دن اسکول کی چھٹی نہیں دیتے (وہ تو شکر اس گورنمنٹ کا کہ اب اسکول کھلتے ہی سال کے چند دن ہیں)۔ خیر پہلا الیکشن جو مجھے یاد ہے اس دن میرے اسکول وین والے انکل چھٹی کے وقت غائب ہو گئے کہ الیکشن ہیں حالات کا کیا بھروسہ۔ پھر کچھ یوں ہوا کہ اسکول خالی ہو گیا اور میں اپنی ایک سہیلی کے ساتھ اسکول میں اکیلی رہ گئی۔ ووٹرزآنا شروع ہو گئے۔ لیکن ہمیں لینے کوئی نہ آیا۔ جیسے تیسے کر کے گھر پہ اطلاع دی تو ہماری امّی سواری نہ ملنے کے باعث 15 منٹ کا سفر ایک گھنٹے میں طے کر کے ہم تک پہنچیں اور بالآخر ہم مغرب تک گھر ہم پہنچ ہی گئے۔ خیر یہ تو چھوٹی سی بات تھی جو وقت کے ساتھ اپنی اہمیت کھوتی گئی۔
پھر چند سال گزرے یہ کوئی 2008 کے الیکشن تھے۔ میرے گھر کے پاس ایک گورنمنٹ اسکول کو پولنگ اسٹیشن بنایا گیا تھا۔ اس اسکول کا نام دی۔پی۔این گورنمنٹ اسکول ہے ( جسے وہاں کے رہائیشی دادا،پوتا، نانا اسکول کہتے ہیں)۔ اس نام کی وجہ اس کی بوسیدہ حالت ہے یا شاید یہ اسکول زمانہ قدیم کا ہے، مجھے نہیں معلوم لیکن وہ اسکول کم کچرے کا ڈھیر زیادہ دکھتا ہے۔ خیر الیکشن کے دن میں وہاں ایک لمبی قطار کے پاس سے گزری۔ میرے ذہن میں ایک خیال آیا کہ آج تو الیکشن کا دن ہے تو لوگ ووٹ ڈالنے آئے ہوں گے۔ لیکن تجسس اس بات کا تھا کہ چھٹی کے دن یہ عوام اتنی گرمی میں آ کیسے گئی۔ وہ عوام جو مرتے کو سڑک پر چھوڑ جائے، شارٹ کٹ کے طریقے ڈھونڈے، کھانے کی میز پر حکومت کو گالیاں دے اور دسترخوان سے ہاتھ پونچھ کر اٹھ جائے۔ اسی سوچ کے ساتھ میرے قدم دھیرے دھیرے آگے بڑھتے گئے پھر اچانک میں رک گئی میری نگاہیں اسی قطار کے سرے کو تک رہیں تھیں، ذہن موف تھا اور پاؤں شل۔۔۔۔ ایک بریانی کی دیگ ، اس پر سیاسی پارٹی کا کارکن بیٹھا ہوا ، چند پولیس والے کرسیوں کا دائرہ بنائے قہقے لگارہے اور لوگ ایک ایک کرکے اپنے انگھوٹے کا نشان دکھاکر بریانی کا پیکٹ لے رہے تھے۔ یہ منظر کسی ایک جگہ کا نہیں ہے ۔ یہ ہر الیکشن میں بہت سے بوتھ کا حال ہے۔
مجھے شکوہ حکومت سے نہیں عوام کے دوغلے برتاؤ سے ہے۔ کیا محض ایک بریانی کی پلیٹ ، چند جھوٹے وعدے یا چند ہزار روپے میں ہم خود اپنا مستقبل نہیں بیچ دیتے؟ تو پھر حکومت اور سیاست دانوں کو گالیاں دینے کاحق ہمیں کس نے دیا؟
یہ ملک ہمارا ملک ہے، ہم سب کا مشترکہ ملک۔ جس کو پانے کے لئے جن جدو جہد سے ہمارے دادا پڑ دادا گزرے اس کا اندازہ تو کیا اس میں سے ایک فیصد بھی قربانی ہم سے مانگی جائے تو ہم سکتے میں آجائیں۔ خیر ہمیں تو عیش میں رہنے اور سستی سے اپنی زندگی پوری کرنے میں بھی خوشی نہیں مل رہی تو اور کس طرح مل سکتی ہے۔
قائد اعظم محمد علی جناح کی ایک تقریر ، انگریزی تقریر دور دور سے لوگ سننے آتے تھے۔ ایسے افراد بھی تھے ان میں جو انگریزی کا ایک حرف بھی نہیں جانتے تھے۔ لیکن قربانی کا جذبہ تھا ان میں ۔ قائد اعظم کے الفاظ میں اور کردار میں تزاد نہیں تھا بلکہ سچ تھا وہ جو کہ رہے تھے وہ کر کے دکھا رہے تھے۔ جبھی عوام ان کے ساتھ تھی۔ وہ بریانی کی دیگیں نہیں بانٹتے تھے کہ جس کی لالچ میں عوام ہوتی تھی۔ وہ ایمانداری، خلوص نیتی سے کھنچتی ہوئی عوام تھی۔ جسے معلوم تھاکہ دھوکا نہیں کھا رہے۔
لیکن! ہم آج کی عوام، آنکھیں بند کیے دھوکے پر دھوکہ کھارہے ہیں اور مسلسل کھا رہے ہیں، جان بوجھ کر ، حقیقت کو جانتے ہوئے بھی اسی قطار کا حصّہ بن رہے ہیں ، باتیں تو بہت کرتے ہیں ہم کہ نا انصافی ہو رہی ہے۔ لیکن کیا ہم خود اپنے ساتھ انصاف کر رہے ہیں؟
نہیں ! بلکہ نہیں ہم تو سوئی ہوئی قوم ہیں۔ ہم کبھی سچ کا سامنا کرنا نہیں جانتے نہ سچ بولنا چاہتے ہیں۔ ہماری بربادی کے ذمّہ دار ہم خود ہیں نہ سیاست دان نہ ہی وہ بریانی جس پر ہم بک جاتے ہیں۔
پاکستان جس نظریہ کی بنیاد پر معرض وجودآیا وہ تو ہم بہت پیچھے چھوڑ آئے۔ شبیر احمد ارمان صاحب (روزنامہ ایکسپریس 2 دسمبر) میں لکھتے ہیں ، ’’اس وقت صورتھال ایسی ہے کہ قوم کے سامنے دو راستے ہیں پہلا راستہ وہ جو ہمیں قائد اعظم دکھا گئے ہیں جب کہ دوسرا راستہ ہمیں عالمی قوتیں دکھانا چاہتی ہیں۔ اب یہ حکمرانو ں کے ساتھ ساتھ پاکستانی قوم کی بھی عقل و دانش پر منحصر ہے کہ وہ اپنے لئے کون سا راستہ متعین کرتی ہے ’’۔ مجھے تو لگتا ہے کہ عالمی قوتیں ہمیں بھکاری کے روپ میں دیکھنا چاہتی ہیں۔ امداد امداد کرتے ہوئے ہم پیچھے بھاگیں اور وہ ہمیں دو گندم کے دانے دیں کسی بھی ڈاکٹری نسخے کے مطابق ایک صبح ایک شام۔
یہ قائد اعظم کا خواب نہ تھا نہ ہی ہم ایسا چاہتے ہیں۔ ہم بولتے سسنتے ہیں لیکن عمل نہیں کرتے۔ میری نوجوانوں سے استدعا ہے کہ وہ اپنے حق کے لئے لڑنا سیکھیں نہ کہ چند جملوں میں تبصرہ کرکے بھول جائیں اور پھر ایک بریانی کی پلیٹ کے پیچھے اس بار پھر اپنا مستقبل داؤ پر لگا دیں اور قائد اعظم کو خراج تحسین پیش کرنے کے بجائے انہیں خراج تکلیف دینے کا باعث نی بنیں۔

ہمیں بدلنا ہو گا خود کو اپنی سوچ کو ۔ پہچاننا ہوگا لوگوں کو اور ان کے قول و فعل کو۔ حقیقت کو ماننا ہوگا اور خود اپنی منزل طے کرنی ہوگی نہ کہ دوسری کہ طے کردہ منزل پر چلنا ہوگا۔ ہمیں خود پاکستان کو سنوارنا ہوگا اور سے قائد اعظم کا پاکستان ایک بار پھر سے بنانا ہوگا۔ کیا آپ میرا ساتھ دیں گے؟ 

4 comments:

  1. This comment has been removed by the author.

    ReplyDelete
  2. nasira gud writing style but u did some proof mistakes chk it out and edit them .

    ReplyDelete
  3. use time stemp in ur news ticker .

    ReplyDelete