میری اب تک کی گزاری ہوئی زندگی میں دو الیکشن مجھے یاد ہیں۔ اور دونوں کی یادیں کچھ اچھی نہیں ہیں۔ شاید اسی لئے مجھے لفظ ’’الیکشن‘‘ صرف مسئلہ ہی لگتا ہے۔
پہلی بات تو یہ کہ اسکولوں کو پولنگ اسٹیشن کیوں بنایا جاتا ہے۔ دوسرا مسئلہ بڑے اسکولوں کی ناک کا آجاتا ہے کہ وہ الیکشن کے دن اسکول کی چھٹی نہیں دیتے (وہ تو شکر اس گورنمنٹ کا کہ اب اسکول کھلتے ہی سال کے چند دن ہیں)۔ خیر پہلا الیکشن جو مجھے یاد ہے اس دن میرے اسکول وین والے انکل چھٹی کے وقت غائب ہو گئے کہ الیکشن ہیں حالات کا کیا بھروسہ۔ پھر کچھ یوں ہوا کہ اسکول خالی ہو گیا اور میں اپنی ایک سہیلی کے ساتھ اسکول میں اکیلی رہ گئی۔ ووٹرزآنا شروع ہو گئے۔ لیکن ہمیں لینے کوئی نہ آیا۔ جیسے تیسے کر کے گھر پہ اطلاع دی تو ہماری امّی سواری نہ ملنے کے باعث 15 منٹ کا سفر ایک گھنٹے میں طے کر کے ہم تک پہنچیں اور بالآخر ہم مغرب تک گھر ہم پہنچ ہی گئے۔ خیر یہ تو چھوٹی سی بات تھی جو وقت کے ساتھ اپنی اہمیت کھوتی گئی۔

مجھے شکوہ حکومت سے نہیں عوام کے دوغلے برتاؤ سے ہے۔ کیا محض ایک بریانی کی پلیٹ ، چند جھوٹے وعدے یا چند ہزار روپے میں ہم خود اپنا مستقبل نہیں بیچ دیتے؟ تو پھر حکومت اور سیاست دانوں کو گالیاں دینے کاحق ہمیں کس نے دیا؟
یہ ملک ہمارا ملک ہے، ہم سب کا مشترکہ ملک۔ جس کو پانے کے لئے جن جدو جہد سے ہمارے دادا پڑ دادا گزرے اس کا اندازہ تو کیا اس میں سے ایک فیصد بھی قربانی ہم سے مانگی جائے تو ہم سکتے میں آجائیں۔ خیر ہمیں تو عیش میں رہنے اور سستی سے اپنی زندگی پوری کرنے میں بھی خوشی نہیں مل رہی تو اور کس طرح مل سکتی ہے۔
قائد اعظم محمد علی جناح کی ایک تقریر ، انگریزی تقریر دور دور سے لوگ سننے آتے تھے۔ ایسے افراد بھی تھے ان میں جو انگریزی کا ایک حرف بھی نہیں جانتے تھے۔ لیکن قربانی کا جذبہ تھا ان میں ۔ قائد اعظم کے الفاظ میں اور کردار میں تزاد نہیں تھا بلکہ سچ تھا وہ جو کہ رہے تھے وہ کر کے دکھا رہے تھے۔ جبھی عوام ان کے ساتھ تھی۔ وہ بریانی کی دیگیں نہیں بانٹتے تھے کہ جس کی لالچ میں عوام ہوتی تھی۔ وہ ایمانداری، خلوص نیتی سے کھنچتی ہوئی عوام تھی۔ جسے معلوم تھاکہ دھوکا نہیں کھا رہے۔
لیکن! ہم آج کی عوام، آنکھیں بند کیے دھوکے پر دھوکہ کھارہے ہیں اور مسلسل کھا رہے ہیں، جان بوجھ کر ، حقیقت کو جانتے ہوئے بھی اسی قطار کا حصّہ بن رہے ہیں ، باتیں تو بہت کرتے ہیں ہم کہ نا انصافی ہو رہی ہے۔ لیکن کیا ہم خود اپنے ساتھ انصاف کر رہے ہیں؟
نہیں ! بلکہ نہیں ہم تو سوئی ہوئی قوم ہیں۔ ہم کبھی سچ کا سامنا کرنا نہیں جانتے نہ سچ بولنا چاہتے ہیں۔ ہماری بربادی کے ذمّہ دار ہم خود ہیں نہ سیاست دان نہ ہی وہ بریانی جس پر ہم بک جاتے ہیں۔

یہ قائد اعظم کا خواب نہ تھا نہ ہی ہم ایسا چاہتے ہیں۔ ہم بولتے سسنتے ہیں لیکن عمل نہیں کرتے۔ میری نوجوانوں سے استدعا ہے کہ وہ اپنے حق کے لئے لڑنا سیکھیں نہ کہ چند جملوں میں تبصرہ کرکے بھول جائیں اور پھر ایک بریانی کی پلیٹ کے پیچھے اس بار پھر اپنا مستقبل داؤ پر لگا دیں اور قائد اعظم کو خراج تحسین پیش کرنے کے بجائے انہیں خراج تکلیف دینے کا باعث نی بنیں۔
ہمیں بدلنا ہو گا خود کو اپنی سوچ کو ۔ پہچاننا ہوگا لوگوں کو اور ان کے قول و فعل کو۔ حقیقت کو ماننا ہوگا اور خود اپنی منزل طے کرنی ہوگی نہ کہ دوسری کہ طے کردہ منزل پر چلنا ہوگا۔ ہمیں خود پاکستان کو سنوارنا ہوگا اور سے قائد اعظم کا پاکستان ایک بار پھر سے بنانا ہوگا۔ کیا آپ میرا ساتھ دیں گے؟
This comment has been removed by the author.
ReplyDeletenasira gud writing style but u did some proof mistakes chk it out and edit them .
ReplyDeleteuse time stemp in ur news ticker .
ReplyDeleteok ma'am
ReplyDelete